13083283_1334620156565106_4771109866444730396_n

Advertisements

یہ پہلی بار نہیں ہوا

راحت فتح علی خان کے کنسرٹ کے پوسٹر اور بینرز بھارتی دہشت گرد تنظیم شیو سینا کے دہشت گردوں کے اک ہجوم نے پھاڑ ڈالے اور پاکستان اور پاکستانی موسیقار کے خلاف نعرہ بازی کی۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا پاکستان کے ایک اچھے گلوکار غلام علی کے ساتھ بھی ایسا ہوچکا ہے بلکہ بہت سے فنکاروں سے بھارتی غنڈے بد تمیزی کر چکے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اگر ان موسیقاروں کی بھارت میں عزت افزائی ایک بار نہیں کئی بار ہوچکی تو یہ لوگ جاتے کیوں ہیں؟
جب ایک قوم آپ سے نفرت کرتی ہے آپ کے ملک سے نفرت کرتی ہے تو بھئی آپ کئ اندر کس بات کا پیار جاگ رہا ہے۔
یہ بھی بات سوچنے والی ہے کہ اپنے ملک پاکستان میں ان گلوکاروں و فنکاورں سے لوگ محبت کرتے ہیں ان کی عزت کرتے ہیں پھر بھی بھارت جیسے نام نہاد جمہوری ملک جہاں کسی بھی فنکار و گلوکار کی عزت محفوظ نہ ہو تو وہاں جانے کا فائدہ؟
کیا دنیا میں ایک بھارت ہی رہ گیا جہاں اپنے فن کا مظاہرہ کیا جا سکتا؟
لحاظہٰ برائے مہربانی کم از کم بھارت جانے سے تمام پاکستانی فنکاروں کو بائیکاٹ کرنا چاہے۔

http://dunyanews.tv/en/Entertainment/333849-Shiv-Sena-workers-tear-apart-banners-of-Rahat-Fate

بزرگ پنشنرز

کیا پنشن لینا جرم ہے؟
یا پھر بزرگ ہونا جرم ہے؟
چلیں یہ دونوں نہ سہی غریب ہونا تو واقعی جرم ہے ۔اگر جرم نہ ہوتا تو غریب یوں دربدر دھکے نہ کھاتا اگر حکام بالا کے اکاونٹ میں پنشن ٹرانسفر ہوسکتی ہے،چیک مل سکتا یا کسی بھی فاصلاتی نظام سے کوئی بھی سہولت مل سکتی تو تو بزرگوں کو کیوں نہیں؟ساری زندگی محنت کر کے آخری عمر میں ان کو دھکے دینا اور لمبی لمبی لائنوں میں خجل خوار کرنا یہی شیوہ مسلمانی ہے؟ حکومت وقت کو چاہیے کہ اس معاملہ پر توجہ دے کہ بزرگوںکے لئے ایسا فاصلاتی نظام پنشن وضع کیا جائے جس سے وہ با آسانی پنشن لے سکیں۔

 

Daily MetroWatch(islamabad)

17 April 2016

p2